ان کی محفل ہے، یہاں رنگ دکھا اور بھی کچھ

Poet: Allama Pir Syed Naseer ud Din Naseer Gillani (Golra Shareef) By: Khalid Roomi, Rawalpindi

 ان کی محفل ہے، یہاں رنگ دکھا اور بھی کچھ
اے دل داد طلب ! رقص میں آ اور بھی کچھ

خون آنکھوں سے بہانا ہے پرانا کرتب
شعبدے ان کو ذرا کھل کے دکھا اور بھی کچھ

جب بھی دیکھوں ، مجھے دشنام دیا کرتے ہو
بات آتی ہے تمہیں اس کے سوا اور بھی کچھ ؟

صرف پھولوں کی صباحت پہ نہیں میری نظر
کہہ گئی ہے مرے کانوں میں صبا اور بھی کچھ

مجھ کو تسلیم تری سحر بیانی قاصد !
صرف باتیں نہ بنا ، کام دکھا اور بھی کچھ

آگ دب جائے، ذرا سینے میں ٹھنڈک تو پڑے
مجھے کہہ لیجئے سرکار ! برا اور بھی کچھ

سادگی تو مرے رہزن کی یہ دیکھے کوئی
لوٹ کر پوچھ رہا ہے کہ بچا اور بھی کچھ ؟

عام لوگوں کی زباں پر شہ خوباں ہی نہیں
کہہ رہی ہے تجھے مخلوق خدا اور بھی کچھ

جب بھی ساقی نے مجھے پوچھ لیا ہنس کے نصیر !
چوم کر جام وہیں میں نے کہا اور بھی کچھ

Rate it:
Views: 498
28 Jan, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL