ان کی محفل ہے ، یہاں رنگ دکھا اور بھی کچھ
Poet: Hazrat Allama Pir Syed Naseer-ud-Din Naseer Gillani (Golra Sharif) By: Khalid Roomi, Rawalpindi ان کی محفل ہے ، یہاں رنگ دکھا اور بھی کچھ
اے دل داد طلب ! رقص میں آ اور بھی کچھ
خون آنکھوں سے بہانا ہے پرانا کرتب
شعبدے ان کو ذرا کھل کے دکھا اور بھی کچھ
جب بھی دیکھوں، مجھے دشنام دیا کرتے ہو
بات آتی ہے تمھیں اس کے سوا اور بھی کچھ ؟
صرف پھولوں کی صباحت پہ نہیں میری نظر
کہہ گئی ہے مرے کانوں میں صبا اور بھی کچھ
مجھ کو تسلیم تری سحر بیانی قاصد
صرف باتیں نہ بنا ، کام دکھا اور بھی کچھ
آگ دب جائے ، ذرا سینے میں ٹھنڈک تو پڑے
مجھے کہہ لیجئے سرکار ! برا اور بھی کچھ
سادگی تو مرے رہزن کی یہ دیکھے کوئی
لوٹ کر پوچھ رہا ہے کہ بچا اور بھی کچھ ؟
عام لوگوں کی زباں پر شہ خوباں ہی نہیں
کہہ رہی ہے تجھے مخلوق خدا اور بھی کچھ
جب بھی ساقی نے مجھے پوچھ لیا ہنس کے نصیر
چوم کر جام وہیں میں نے کہا اور بھی کچھ
More Love / Romantic Poetry
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے روٹھ جانے کی ہی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
Bina
من میں تمھیں بسا کے من میں تمھیں بسا کے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
Bina






