ان کی نظروں میں سما کر میں جو افضل ہو گیا
دیکھتے ہی دیکھتے ہر مسئلہ حل ہو گیا
دل لگی جو کر رہا تھا ایک بھنورا پھول سے
اس کے دامن کو چھوا تو اور چنچل ہو گیا
ابر کے آوارہ ٹکڑے ہو گئے باہم تو پھر
دیکھتے ہی دیکھتے یہ دشت جل تھل ہو گیا
ہو رہے ہیں اب موبائل ہی سے حل سارے سوال
جیسے استادوں کا بھی استاد گوگل ہو گیا
ماں کی ممتا چل رہی تھی ساتھ دورانِ سفر
راستہ جتنا بھی تھا پرخار مخمل ہو گیا
دھیرے دھیرے شمس نکلا اور اجالا ہو گیا
رفتہ رفتہ بادلوں میں چاند اوجھل ہو گیا
وقتِ رخصت ماں نے انور جو تجھے تحفہ دیا
وہ دوشالہ اب کسی کے سر کا آنچل ہو گیا