انا کے ہاتھوں مجبور تھا

Poet: fauzia By: fauzia, rahim yar khan

انا کے ہاتھوں مجبور تھا بہت کھل کہ رویا نہ ہوگا
تنہائی کا درد اسپہ منکشف نہ تھا رات بھر سویا نہ ہوگا

میرے آنچل سے ڈھانپ دیا تھا اسکے چہرے کو
ایسا شریر جھونکا اس بام پہ پھر آیا ہوگا
میری چوڑیوں کی کھنک سے بن جاتی تھی شہنائی سی رات
خاموش رتجگوں میں کیسے دل بہلاتا ہوگا

جدا کرکے خود سے لوٹتے وقت اک نظر مڑ کر مجھے دیکھا تو ہوگا
کیوں صفائی کاحق نہیں دیا اسے خود پہ چلایا ہوگا

ناٹ لگاتے ہوئے نکٹائی کو میرا لمس محسوس کرتا تو ہوگا
دیکھ کر تروتازہ سرخ گلاب میرے جوڑےکا حسن یادآیا تو ہوگا

یوں تو تنہائی کے زخم سے گھائل ہے دل میرا مرہم اس نے بھی لگایا نہ ہوگا
بھول کر گاڑی کی چابی اپنی ہی جیب میں جانے کہاں کہاں سر کھپایا ہوگا

دھندلا نہ جاے عکس ماضی کی گرد سے میری تصویر عروسی کو چوماتو ہوگا
بچھڑکر کس حال میں ہو گی اس خیال سے دل گھبرایا ہوگا

کیسے ممکن ہو کہ لوٹ آئے وہ انگنت ترکیبوں سے لجھاہوگا
مجھ سے بچھڑنے کی کتنی جلدی تھیاسے لمحں کی طوالت نے سمجھایا ہوگا
 

Rate it:
Views: 449
29 May, 2015
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL