انتخاب درد ۔حصہ اول

Poet: Khawaja Meer Dard By: Bakhtiar Nasir, Lahore

میں جاتا ہوں دل کو تیرے پاس چھوڑے
میری یاد تجھ کو دلاتا رہے گا

باوجو دیہکہ پرو بال نہ تھے آدم کے
وہاں پہنچا کہ فرشتے کا بھی مقدور نہ تھا

دل زمانے کے ہاتھ سے سالم
کوئی ہوگا کہ رہ گیا ہوگا

اندازہ وہ ہی سمجھے میرے دل کی آہ کا
زخمی کوئی ہوا ہو کسی کی نگاہ کا

کھل نہیں سکتی ہیں اب آنکھیں میری
جی میں یہ کس کا تصور آگیا

تو ہو وے جہاں مجھ کو بھی ہونا وہیں لازم
تو گل ہے میری جان تو میں خار ہوں تیرا

موت کیا آکے فقیروں سے تجھے لینا ہے
مرنے سے آگے ہی یہ لوگ تو مر جاتے ہیں

بعد مرنے کے میرے ہوگی میرے مرنے کی قدر
تب کہا جائے گا لوگوں سے وہ برساتیں کہاں

یوں تو ہے دن رات میرے دل میں اسکا خیال
جن دنوں اپنی بغل میں تھا‘ سو وہ راتیں کہاں

اسکی باتیں مجھ سے کیا پوچھو ہو تم
مدتیں گزریں کہ دیکھا بھی نہیں

Rate it:
Views: 1585
18 Mar, 2010
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL