انتظار شاعری
Poet: تمیزالدین تمیز دہلوی By: راحیل, Islamabadانتظار کی حد تک انتظار کرنا تھا
اعتبار کی حد تک اعتبار کرنا تھا
حال دل تو کہنا تھا مختصر مگر قاصد
اختصار کی حد تک اختصار کرنا تھا
خواب ہو کہ بیداری آہ و نالہ و زاری
اختیار کی حد تک اختیار کرنا تھا
اس نے حسب آسائش کی عدو کو فہمائش
خاکسار کی حد تک خاکسار کرنا تھا
نعش بھی مری اس نے قبر میں نہ رہنے دی
بے دیار کی حد تک بے دیار کرنا تھا
یاس ہو کہ سرمستی چاک جامۂ ہستی
تار تار کی حد تک تار تار کرنا تھا
اے تمیزؔ یاروں پر ناتواں سہاروں پر
انحصار کی حد تک انحصار کرنا تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






