انجانوں کی طرح
Poet: wasty By: rizwan ahmad wasty, taxilaاس کے دل میں رہ جائیں گے ارمانوں کی طرح
وہ جو رہتا ہے دل میں طوفانوں کی طرح
اگر وہ خود کو سنبھال لے ہم بھی سنور جائیں گے
اس کے گیسو اڑتے ہیں جو بادبانوں کی طرح
اس کی راہوں میں بہا دیں گے دل و جان اپنی
حد سے زیادہ چاہیں گے اسے دیوانوں کی طرح
کہیں ان کو برا نہ لگے ہمارا یوں باتیں کرنا
بس یہ سوچ کر چپ رہتے ہیں انجانوں کی طرح
اب ہم اور کیا مانگیں خدا سے اے واسطی
ان کی چاہت میں ہو گئے فنا ہم پروانوں کی طرح
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






