اندھیری زندگی میں ، سحر کردو
Poet: اخلاق احمد خان By: Akhlaq Ahmed Khan, Karachiاندھیری زندگی میں ، سحر کردو
میرے نام کوئی اک ، پہر کردو
بہتا ہوں اک ندی کی طرح
مجھ میں ملکر مجھ کو ، بحر کردو
کبھی سوجاؤ کاندھے پر سر رکھ کر
اور زندگی یونہی ، بسر کردو
وقت بیت نہ جائے باتوں میں
قصہ کچھ ، مختصر کردو
ُ ُ ُصرف تمہاری ہوں ُ ُ کے جملے کو
وفاؤں کا میری ، ثَمر کردو
مکاں میں لا مکاں سا ہوں
میرے مکاں کو ، گھر کردو
میں اب تمہارے در کا ہوں
جدھر چاہو ، ادھر کردو
مانا کہ عشق اک خطرہ ہے
چلو مجھے پُر ، خطر کردو
باقی ہے کام زمانے کا
تم مجھ پر بس اک نظر کردو
یہ حسرتیں پوری میری
نہ چاہے جی ، مگر کردو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







