اندھیرے میں چمکے اک ستارہ میرے نام کا
Poet: Arooj Fatima Lucky By: Arooj Fatima Lucky, K.S.Aوہ شخص کچھ نہیں پھر بھی ہے کام کا
اندھیرے میں چمکے اک ستارہ میرے نام کا
پیاس تو برسوں کی تھی لیکن
میسر ہی تھا دیدار جام کا
گھڑی کی ٹک ٹک سناٹا سنا رہی تھی
ُاس نے بھیجا ہی نہیں خط پیغام کا
اب کہاں ڈھونڈتی ہو تم خوشیوں کو
وہی ہے ُسکوں تیری صبح و شام کا
بے ترتیبی سے تو بہت کچھ کر لیا
لکی ! اب کچھ تو کرو نظام کا
شاید مجھے بھی کبھی ملے صلہ
وفا و محبت سے کچھ انعام کا
خاموش آنکھوں میں تو ساغر تھا
پر ُاس نے پوچھا ہی نہیں کلام کا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






