انسان محبت ميں ہي مجبور ھوتا ہے
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudia Arabiaالفت کا بھی اک دستور ھوتا ہے
انسان محبت ميں ہی مجبور ھوتا ہے
سلگتے ھيں لوگ تنہائيوں مں پل پل
پھر بھی پيار کرنے کا ہر اک کو شوق ھوتا ہے
محبوب کی ہر ادا سے پيار ھوتا ہے ملنا کتنا بھی دشوار کيوں نہ ہوں
پھر بھی ايک ھونے کا سب کو يقين ھوتا ہے
ہر ظلم يہ دل سہہ جاتا ہے جب کوئی عشق ميں گرفتار ھوتا ہے
بھول جاتا ہے انسان خود کو جب کسی سے پيار ھوتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







