او بے خبر!
Poet: Sobiya Anmol By: sobiya Anmol, Lahoreتیری آس میں ہو گئی میں بدنام کتنا
کیا جانے‘ پی ڈالا ہجر کا جام کتنا
تھے آنسو جتنے بھی دھوپوں میں تارے بنتے
کر ڈالا میں نے اُنہیں سلام کتنا
ہزاروں خواب سجائے تھے آنکھوں نے
کیا تھا تیرے آنے کا انتظام کتنا
دیکھ سکو تو دیکھ لو میری راتوں کو
تھی اُن میں تشنگی کتنی‘ آرام کتنا؟
بھولی دُنیا میں تجھے یاد کرتے کرتے
ورنہ زندگی سے تھا مجھے کام کتنا
رستے میں ہی ہمیشہ کھو جاتی تھیں
بیجھ دیا ہواؤں کے ہاتھ پیغام کتنا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






