اور کچھ دن گلاب رہنے دو
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillحسن کو پر شباب رہنے دو
محرموں سے حجاب رہنے دو
ہاتھ خالی ہیں میری خواہش کے
اور کچھ دن گلاب رہنے دو
روئے روشن کو سامنے کر دو
سب گناہ و ثواب رہنے دو
میرا سب کچھ اس اک سوال میں ہے
کیا ہے اسکا جواب ۔ رہنے دو
میری تقدیر کے اندھیرے میں
یاد کے آفتاب رہنے دو
ایک لمحہ ہی کیا نہیں کافی
عمر بھر کا حساب رہنے دو
رابطہ کچھ نہ کچھ روا رکھو
فاصلوں کے عذاب رہنے دو
اس میں آئے گا نام تیرا بھی
درد کا انتساب رہنے دو
تیری مسکان پہ کرنیں نچھاور
آنسوؤں کی کتاب رہنے دو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






