اور کھڑکی میں ستارے شام چلے سنگ سے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاکس سفر میں ہیں کہ اب تک راستےہیں تنگ سے
آسماں پہ شمعیں روشن ہیں مگر .. آہنگ سے
کتنی نم ہے آنسوؤں سے یہ صنم خانے کی خاک
یہ طواف گل کے لمحے کتنے آتش رنگ سے
یہ گلستاں ہے کہ چلتے ہیں تمناؤں کے خواب
یہ ہوا ہے یا بیاباں کے قدم کےسنگ سے
ایک بستی عشق کی آباد ہے دل کے قریب
لیکن اس بستی کے رستے کس قدر ہے جنگ سے
آج بھی ہر پھول میں بوئے وفا آوارہ ہے
آج بھی ہر زخم میں تیرے کرم کے ڈھنگ سے
آج گھر کے آئینے میں صبح سے اک شخص ہے
اور کھڑکی میں ستارے شام چلے سنگ سے
رہ گزر کہتی ہے جاگ اے ماہتاب شام یار
ہم سر بازار چلتے ہیں مگر بے ڈھنگ سے
آئنے میں کس کی آنکھیں دیکھتی ہوں وشمہ جی
دو کنول ہیں بیچ پانی میں مگر ہیں بھنگ سے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






