اوہ جانیوالے
Poet: Muhammad Zia Siddiqui By: Muhammad Zia Siddiqui, islamabadمیری آنکھوں سے نیندیں
کیوں چرا کے سو گئی ہو تم
ہجر کی آگ دیکر
کس طرح سے کھو گئی ہو تم
مجھے تو یاد ہیں وہ
ساری باتیں
اور تیرا سپنا
سحر انگیز لہجے سے مجھے کہتی تھی تم اپنا
زرا سی بات پر میری
بھڑک کے روٹھ جاتی تھی
بھری رنگیں کلائی سے
اک چوڑی ٹوٹ جاتی تھی
مقدر کے تماشے کو کبی بھی نہ سمجھ پایا
ضیاء کیسے بتاؤں میں کہ پھر ایسا بھی دن آیا
روانہ ہو رہی تھی وہ
میری نظریں سوالی تھیں
جواب اتنا ہی کافی تھا
کلائیاں اسکی خالی تھیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






