اَس نے یہ کہا اور رو دی
Poet: UA By: UA, Lahoreوہ ہر وقت ہنستی رہتی ہے
کتنی خوش قسمت ہے وہ
اَس کے لبوں پہ
ہمیشہ مسکان رہتی ہے
کتنی ہنس مکھ ہے وہ لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
پتہ نہیں کیوں
اَس کی آنکھیں اداس رہتی ہیں
اس کی آنکھوں میں نمی ہے
لیکن اس کی آنکھوں میں
کوئی پیاس رہتی ہے
ایک دن بس یونہی
میں نے اَ س سے پوچھ لیا
تَم کتنا ہنستی کتنا ہنساتی ہو
کبھی نہیں روتی
ہمیشہ مسکراتی ہو
لیکن ناجانے کیوں
تمہاری آنکھیں اداس رہتی ہیں
کس چیز کی کمی ہے تمہیں
کس شے کی تلاش رہتی ہے
کیوں تمہاری مسکراہٹ میں
اداسی جھلکتی رہتی ہے
کوئی مسئلہ ہے
کوئی پریشانی ہے
مجھے بتاؤ۔۔۔!!!
کیا تمہاری کہانی ہے
بہت برسوں کی بات ہے
ہم بہت غریب تھے
لیکن بہت خوشحال تھے
اور آج کی بات ہے
ہم بہت خوشحال ہیں
لیکن ہم کنگال ہیں
کیونکہ ٹھنڈی چھاں نہیں
ہمارے پاس “ماں“ نہیں
آج پہلی بار اس نے
ضبط کی چادر کھو دی
اس نے کہا اور رو دی
More Sad Poetry
رنج و الم زیست لے آئی ہے اس موڑ پر ہمیں ۔۔۔۔۔۔!
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
Tanveer Ahmed






