عشق کرنا عشق کی بات مت پو چھنا
Poet: Maria Riaz By: Maria Riaz, Haroona abadعشق کرنا عشق کی بات مت پو چھنا
اس آگ میں جلنا انتہاہ مت پو چھنا
محبت کرتے ہو پھر کیوں ڈرتے ہو
گر میرے ہو میرے جذبات مت پو چھنا
وحشت سے بھری وحشی راہیں ہیں
ان راہوں پر چلنا منزل مت پو چھنا
عذاب سی لگنے لگے جب زندگی موت سے سوال مت کرنا
زندگی میں جینا، سانسوں سے حال مت پوچھنا
کمال سا ضبط رکھنا خود پر
ضبط سے فرقت کے لمحات مت پوچھنا
بہت وسیع میدان ہے ہار بھی جاؤ اگر
ہار کر بھی ہار کی وجہ مت پوچھنا
تڑپو گے بہت تڑپتا پاؤ گے خود کو
تڑپتی مجھلی سے اس کا سمندر مت پوچھنا
پلکوں پر ضرور موم کے آنسو جما لینا
یاد کی شمع سے انہیں پگلھنے مت دینا
ہاتھوں کی لکیروں میں محبت کی عمر لازمی پڑھ لینا
اشکوں سے ان لکیروں کو بدلنے کی فریاد مت کرنا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






