عشق کرنا عشق کی بات مت پو چھنا

Poet: Maria Riaz By: Maria Riaz, Haroona abad

عشق کرنا عشق کی بات مت پو چھنا
اس آگ میں جلنا انتہاہ مت پو چھنا

محبت کرتے ہو پھر کیوں ڈرتے ہو
گر میرے ہو میرے جذبات مت پو چھنا

وحشت سے بھری وحشی راہیں ہیں
ان راہوں پر چلنا منزل مت پو چھنا

عذاب سی لگنے لگے جب زندگی موت سے سوال مت کرنا
زندگی میں جینا، سانسوں سے حال مت پوچھنا

کمال سا ضبط رکھنا خود پر
ضبط سے فرقت کے لمحات مت پوچھنا

بہت وسیع میدان ہے ہار بھی جاؤ اگر
ہار کر بھی ہار کی وجہ مت پوچھنا

تڑپو گے بہت تڑپتا پاؤ گے خود کو
تڑپتی مجھلی سے اس کا سمندر مت پوچھنا

پلکوں پر ضرور موم کے آنسو جما لینا
یاد کی شمع سے انہیں پگلھنے مت دینا

ہاتھوں کی لکیروں میں محبت کی عمر لازمی پڑھ لینا
اشکوں سے ان لکیروں کو بدلنے کی فریاد مت کرنا

Rate it:
Views: 1006
04 Jul, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL