اَلف اَلف ہے اسے شین قاف کرتے نہیں

Poet: Basheer Badr By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKI

اَلف اَلف ہے اسے شین قاف کرتے نہیں
دل و دماغ میرے اختلاف کرتے نہیں

ذہین سانپ سدا آستیں میں رہتے ہیں
زباں سے کہتے ہیں دل سے معاف کرتے ہیں

یہ دل ہے کمرے کی بتی بُجھا کے سوتا ہے
مگر دماغ کا ہم مین آف کرتے نہیں

ذرا سی بات پہ ہفتوں اداس رہتے ہیں
اس آئینے کو کئی روز صاف کرتے نہیں

کہو تو اوس بچھا دیں سحر کی پلکوں پر
غزل، غزل ہے اسے ہم لحاف کرتے نہیں

خراج لیتے ہیں لیکن ذرا سلیقے سے
کسی وزیر کے گھر کا طواف کرتے نہیں

اسد سے کہیو کہ اب ترجمے حذف کر دیں
کہ ڈپلیکٹ کا ہم اعتراف کرتے نہیں

Rate it:
Views: 501
08 Dec, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL