اُجالے رکھ لو مگر تِیرگی تو دو گے ناں؟

Poet: رشید حسرت By: رشید حسرت, Quetta

اُجالے رکھ لو مگر تِیرگی تو دو گے ناں؟
مُجھے خبر ہے مُجھے پِھر بھی تُم کہو گے ناں

کڑا جو وقت پڑا لوگ چھوڑ دیں گے مُجھے
کہو کہ تُم تو مِرے ساتھ ساتھ ہو گے ناں؟

بجا کہا کہ میں کرتا رہا ادا کاری
بجا یہ بات کہ مُجھ کو عزِیز ہو گے ناں

غموں کا اور مداوا نہِیں ہے پاس مِرے
میں بیچنے کو چلا ہُوں خرِید لو گے ناں؟

کرو گے ایسے اگر ہم سے سرد مہری تُم
تو زِندگی میں کبھی پیار کا کہو گے ناں؟

میں جانتا ہوں مُجھے بھیج دو گے دُور کہِیں
میں لوٹ آؤں گا پر تُم وہاں پہ ہو گے ناں

بجا کے رکھ دے گا وہ اِینٹ سے ہی اِینٹ حُضُور
سو ایسے لوگوں کے ہی مُنہ کبھی لگو گے ناں

بس اِک فقِیر کے دِل کا تُمہیں ہے رکھنا بھرم
پِھر اُس کے بعد کبھی غم کوئی رکھو گے ناں

رشِید کرتے ہو کیوں مُجھ سے روز طعنہ زنی
پتہ چلے گا محبّت کبھی کرو گے ناں؟

Rate it:
Views: 703
19 Aug, 2022
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL