اُداسی
Poet: zain shakeel By: zain shakeel, gujratشہر، گلیاں، نگر، تمام اُداس
چاند، تارے اُداس، شام اُداس
صبح سے شام کا نظام اُداس
تیرا وہ آخری سلام اُداس
کیا تغیّر ہے تیرے جانے سے
شہر بھر کاٹنے کو دوڑتا ہے
ہر گلی اُنگلیاں اُٹھاتی ہے
ہم نے سوچا کبھی نہ تھا لیکن
اَب تِری یاد بھی ستاتی ہے
پھر تِری یاد گھیر کر مجھ کو
میری غزلیں مجھے سُناتی ہے
کوئی چارہ ہو غم شناسی کا
حل نکالو نا روح پیاسی کا
یہ بھی ہاڑا ہے دیوداسی کا
’’آؤ ماتم کریں اُداسی کا‘‘
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






