اُس اجنبی نے نیا آج ایک کام کیا
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKاُس اجنبی نے نیا آج ایک کام کیا
مرے قریب سے گذرا مجھے سلام کیا
نہ تھا وہ شخص بکاؤ یہ سچ تو ہے لیکن
ضرورتوں نے اُسے وقت کا غلام کیا
مٹا گیا تھا وہ صدیوں کے فاصلے جیسے
سفر تو اُس نے مرے ساتھ دو ہی گام کیا
میں کس زباں سے کروں شکریہ ادا تیرا
تری نظر نے عطا مجھ کہ یہ مقام کیا
بناۓ مٹی کو سونا تو ایسا پارس ہے
کیا ہے تو نے جسے مس اسی نے نام کیا
ہر اک نظارا ہی اب سرمئی سا لگتا ہے
جھٹک کے زلف گھٹا نے صبح کو شام کیا
جو گر گیا تھا نگاہوں سے ایک لمحے میں
وہ تھا تو خاص محبت نے جس کو عام کیا
میں پوچھ لوں گی کبھی ہو سکا اگر ممکن
یہ کس نے وقت کے گھوڑے کو بے لگام کیا؟
ہر ایک بار مصیبت سے بچ نکلنے کا
مرے خدا تری رحمت نے انتظام کیا
ملی نجات اُسی کو تمام زخموں سے
وہ جس نے ترک ارادۂ انتقام کیا
پڑی نہ مجھ کو ضرورت دواؤں کی عذراؔ
اس عشق نے تو میرا کام ہی تمام کیا
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو







