اُس کی آنکھوں سے ابتدا کی تھی

Poet: Dr Faisal Shahzad By: Faisal Shahzad, Islamabad

اُس کی آنکھوں سے ابتدا کی تھی
مُحبت نہ تھی مُحبت کی انتہاکی تھی

یُوں تو رکھا تھامُحبت میں تناسب لیکن
اپنی اوقات سے بڑھ کر ہم نے وفا کی تھی

رسم اُلفت تُو سلیقے سے پھر ادا کی تھی
میری وفاسےتو بڑھ کراس نےجفا کی تھی

زمانے والو کیوں ہم پے اُنگلیاں اُٹھاتے ہو
مُحبت جُرم ہے کیا ہم نے یہ خطا کی تھی

بُجھے چراغ جلا کر بُہت دُعا کی تھی
یوں آندھیوں نے بُہت تیز پھر ہوا کی تھی

نہ تُم نے مانگا ہمیں اپنی دُعاؤں میں مگر
ہم نے تو رب سے فقط تیری التجا کی تھی

اُس کی آنکھوں سے ابتدا کی تھی
مُحبت نہ تھی مُحبت کی انتہاکی تھی

Rate it:
Views: 871
23 Feb, 2019
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL