اُسے رہا اپنے حسن پہ غرور
Poet: Hafeez Javed By: Muhammad Hafeez Javed, Attockکھایا جو زخم ہم نے، وُہ اتنا تازہ بھی نہیں ہے
گہرا ضرور ہے لیکن، اتنا زیادہ بھی نہیں ہے
میری سوچوں کا محور رہی صرف اُسی کی ذات
یہ سچ تو ہے لیکن، کچھ اتنا زیادہ بھی نہیں ہے
نجانے کیوں کھلے در پہ اُٹھ جاتی ہیں نگاہیں اپنی
بے وقت وُہ آتے نہیں اور ملن کا وعدہ بھی نہیں ہے
ہمیں اپنی چاہت پہ ناز، اُسے رہا اپنے حسن پہ غرور
ہماری چاہت سے حسیں وُہ کچھ زیادہ بھی نہیں ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






