اُسے کیسے بتاؤں
Poet: Shehzad Owaisi By: Shehzad Owaisi, Karachiاُسے کیسے بتاؤں
کہ
محبت تو نہیں مرتی
مگر
انسان روز مرتے ہیں
بہت تکلیف ہوتی ہے
بجھڑنا کسی کیلئے بھی
برگز آساں نہیں ہوتا
اُسے کیسے بتاؤں میں
اُسے مختلف بھی رہنا تھا
اور
اُسے لوگوں کا بھی ڈر تھا
مگر وہ جانتی سب تھی
کہ
کسی کو خاص رکھنے میں
بہت دشواریاں ہونگی
زمانہ بھی کہے گا
اور
تہذیب بھی دامن تھامے گی
اُسے کیسے بتاؤں
کہ
بناء اُسکے یہاں بھی کچھ نہیں بدلہ
دل اب بھی دھڑکتا ہے
جب اُسکی یاد آتی ہے
کوئی یہ کہیں نہیں سکتا
کہ
کسی کا جانا
کسی کو محسوس نہیں ہوتا
اُسے کیسے بتاؤں میں
مجھے انتظار ہے
تو
صرف اُس گھڑی کا
جب وہ میری ہوگی
وہی تقدیر ہوگیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






