اُن سے وابستہ جو اک یاد میرے پاس ہے جی
Poet: Adil Baggi By: adeel abbas, jauharabadاُن سے وابستہ جو اک یاد میرے پاس ہے جی
اَب تو بس یہ ہی میرے جینے کی آس ہے جی
لمحے سکون کے سکھ راحتیں ہیں سب وَقتی
مجھے ہر حال میں دکھ ہی میرا راس ہے جی
وہ حال پوچھتا ہے عین میرا وقتِ مَرگ
یوں میرا دوست میرے درد کا شناس ہے جی
دولتِ حسن میسر ہے جسم بینوں کو
جہاں میں کس کو یہاں پیار کا پاس ہے جی
مجھ سے حالات کی نا سازگی کا مت پوچھیں
دن ہیں اُفسردہ ہر شام بھی اُداس ہے جی
ذَرا سی بات پہ آنکھوں کو اَشک بار کرے
مریضِ عشق ہوتا بڑا حساس ہے جی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






