اُن غزال آنکھوں نے
Poet: ندیم مراد By: ندیم مراد, امٹا ٹا ساؤتھ افریکااُن غزال آنکھوں نے
جیسے دیکھا چاندوں نے
دے کے پھول سوکھے ہوئے
دُکھ دیے کتابوں نے
چین دل کا لوٹ لیا
ریشمی لباسوں نے
عمر بھر رکھا مخمور
دو نشیلی آنکھوں نے
پور کر دئے زخمی
نرم خُو گلابوں نے
چاہتوں کو رنگ دیے
تتلیوں کے رنگوں نے
جھک کے رات بھر دیکھا
اُن کو چاند تاروں نے
قیس کر دیا مشہور
اِن خراب حالوں نے
خشک برگ و بار دیے
اتنے سبزہ زاروں نے
پیر چومے ہیں گر کے
اُونچے آبشاروں نے
طرزِ زندگی بخشا
ہم جُنوں کے ماروں نے
کوکھ کی ہے دھرتی کی
بانجھ ان ہی جنگوں نے
زیست کیا ہے سمجھایا
پھول! تیرے کانٹوں نے
دکھ نہیں ندیم کہ سب
دکھ دیے ندیموں نے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






