اُن کا سِتم کبھی تو کرم میں چھپا ہوا
Poet: عبدالحفیظ اثر By: عبدالحفیظ اثر, Mumbai, Indiaاُن کا سِتم کبھی تو کرم میں چھپا ہوا
اٌن کا کرم کبھی تو سِتم سے ملا ہوا
چشمِ کرم سے اُن کی مقدّر سنور جائے
جیسے بہار میں تو چمن ہی کِھلا ہوا
بلبل سے کوئی پوچھے محبت کی داستاں
سب کچھ لٹا کے گل پہ نہ کچھ بھی گِلہ ہوا
پروانوں کو خِرد سے نہ مطلب بھی ہے کوئی
دل کی صدا پہ خود کو مٹانا رَوا ہوا
آساں نہیں ہے دل میں کسی کو بسا لینا
دل میں تو غیر کا ہی تأثر جما ہوا
کشتی پھنسی بھنور میں کنارا نہ مل سکا
اُن سے کبھی جو اپنا تعلق جدا ہوا
اُن کے سِوا کسی کا تصور نہ اثر کو
اٌن کی ہی یاد کا دِیا دل میں جلا ہوا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






