اُُُُسکی سرخ ہوتی ہوئی رخسارمیں
Poet: ayesh By: ayesh, Peshawarاُسکی سرخ ہوتی ہوئی رخسارمیں
عجب گلاب تھےدیکھیں نہیں بہارمیں
نشہ ایسانہیں ملتاکبھی شراب میں
ہوتا ھے جو آنکھ اشکبار میں
سامنےدریابہاتھاراہ فرار میں
کسی طوفاں سےہوگئی تھی ہمکنارمیں
نہیں تھی حسن و رنگینیوں کی طلبگارمیں
کرتی رہی تیری سادگی سےپیار میں
ہستی کیاتھی چاند کی پاتال میں
سورج کودیکھ کرآ گیا سنگھارمیں
بڑا بننا ھےمجھےحسن کردارمیں
عزت ڈھونڈتی نہیں دولت بیسیارمیں
اظہارمحبت تھاسووہ کر ہی لیا
بدل گیاباآخرانکاربھی اقرارمیں
ذندگی شدت دردمیں لپٹی ہوئی گزرگئی
سال درسال بیتےجو انتظار میں
تم کہتےتوخاک بنکرتیرےدرپہ بکھرجاتی
متاح جان پیش کرتی تیرےدربار میں
تمناملنےکی تھی سواس سے ملکرعائش
اور بھی پہلے سے ہوئی بیقرار میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






