اُُُُسکی سرخ ہوتی ہوئی رخسارمیں
Poet: ayesh By: ayesh, Peshawarاُسکی سرخ ہوتی ہوئی رخسارمیں
عجب گلاب تھےدیکھیں نہیں بہارمیں
نشہ ایسانہیں ملتاکبھی شراب میں
ہوتا ھے جو آنکھ اشکبار میں
سامنےدریابہاتھاراہ فرار میں
کسی طوفاں سےہوگئی تھی ہمکنارمیں
نہیں تھی حسن و رنگینیوں کی طلبگارمیں
کرتی رہی تیری سادگی سےپیار میں
ہستی کیاتھی چاند کی پاتال میں
سورج کودیکھ کرآ گیا سنگھارمیں
بڑا بننا ھےمجھےحسن کردارمیں
عزت ڈھونڈتی نہیں دولت بیسیارمیں
اظہارمحبت تھاسووہ کر ہی لیا
بدل گیاباآخرانکاربھی اقرارمیں
ذندگی شدت دردمیں لپٹی ہوئی گزرگئی
سال درسال بیتےجو انتظار میں
تم کہتےتوخاک بنکرتیرےدرپہ بکھرجاتی
متاح جان پیش کرتی تیرےدربار میں
تمناملنےکی تھی سواس سے ملکرعائش
اور بھی پہلے سے ہوئی بیقرار میں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






