اِتفاقاً کل میری اس سے ملاقات ہوئی
Poet: ارسلان حُسینؔ By: Arsalan Hussain, Ajmanاِتفاقاً کل میری اس سے ملاقات ہوئی
ہچکِچاتے ہوئے لہجے میں چند بات ہوئی
وہی صندل سہ چہرہ، ادائیں بے نیازی سی
سنہری آنکھوں میں کاجل اور اک مُسکان دھیمی سی
ہواؤں کے اشاروں پر بکھرتی ہوئ زُلفیں
انھیں موقع جو مل جائے تو اسکے لب کو چُومیں
گھڑی پہنی ہوئ اِک ہاتھ میں، اِک ہاتھ میں کنگن
اور اسکے قدموں کی آہٹ پر وہی پائل کی چَھن چَھن
بہت معصوم سہ لہجہ جو رَس گھول دے لفظوں میں
ہزاروں خواہشیں پیدا جو کردے دل کے ہلکوں میں
وہی بے باک پَن باتوں میں اور لُطف سے بھرپور
ہو اسکا انگ انگ جیسے کسی مستی میں چُور چُور
اپنے بالوں کو لَٹ دے کر وہی نزاکت سے شرمانا
بے حد سادہ طبیعت میں اپنی ہر بات منوانا
تو پھر میں سوچتا رہتا
کچھ بھی تبدیل نہیں اس میں
یہ تو بلکل ویسی ہے
جیسے گزرے دنوں میں تھی
تو پھر میں غور کرتا خود پر
اور بے سبب ہنستا
کہ اِک اُجڑا ہوا دل ہے جسے سب سے قدورت ہے
نہ کسی کی چاہ باقی ہے نہ اب خود سے محبت ہے
نا ایسا روگ ہے کوئی جو مجھے جی بھر کے رُلا دے
نا کوئ اسباب خوشی کا جو مجھے کھُل کر ہنسا دے
اپنے لہجے کی کڑواہٹ سے میں اب خود بھی ڈرتا ہوں
میں اگر سَج سنور بھی لوں تو اکثر خود پر ہنستا ہوں
نا کوئ معمول ہے اپنا ، نہ کسی سے مجھکو ملنا ہے
اپنے گھر کی دیواروں میں ہی خود کو قید رکھنا ہے
طلوعِ سورج کو دیکھے ہوئے ہفتوں گزر جائیں
آندھیرا جیسے ہی چھائے تو ہم گھر سے نکل آئیں
بھلا یہ زندگی ٹہری کے جس زندگانی کو
قضا کے وقت سے پہلے ہی اِک موت آجائے
تو پھر وہ ٹوکتی مجھکو، کہاں کھوئے ہوئے ہو تم؟
وقت آگے نکل آیا اور پیچھے رہ گئے ہو تم
کسی کے منتظر رہنے سے حاصل کچھ نہیں ہوگا
اِک ایسا ہمسفر ڈھونڈو
جو گزرے وقت کی رفتار سے تمکو کھینچ کر لائے
تمھارا ہاتھ تھامے اور
تمھاری منزل کی جانب تمھارے سَنگ سَنگ جائے
اور اس بے رنگ زندگانی کو
اپنے رنگ میں رنگ جائے
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کسی سے خود کو مگر کم نہیں بنائیں گے
ہمارے عہد میں ہر سو محبتیں ہوں گی
خزاں کا ہم کوئی موسم نہیں بنائیں گے
ہم ایک نقشہ بنائیں گے سارے ملکوں کا
کسی بھی ملک کا پرچم نہیں بنائیں گے
ہم اپنے علم سے مرہم بنائیں گے لیکن
ہم اپنے علم سے ایٹم نہیں بنائیں گے
ہماری سانس کو عادت نہ ہونے لگ جائے
کبھی بھی ہم کوئی ہمدم نہیں بنائیں گے
کبھی نہ راستہ روکیں گے جانے والوں کا
کہیں پہ چشمۂِ زم زم نہیں بنائیں گے
کسی سے دور بھی رہ کر خوشی سے جی لیں گے
کسی کی زیست جہنم نہیں بنائیں گے
جو دل کی صداؤں کی گہرائی ہے، وہی ہے۔
جو ہر گام پر ہے چراغِ نظر
مسافت میں رہتی جو بینائی ہے، وہی ہے۔
نہ پوچھو کہ کیسے وہ دل میں بسا ہے
کہ جذبوں کی ہر ایک رسوائی ہے، وہی ہے۔
کبھی ایک آہٹ، کبھی ایک خوشبو
یہ دنیا جو دل میں بس آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو خیالوں میں اکثر سنواروں
جو خوابوں میں چپکے سے آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو دعاؤں میں اکثر پکاروں
مرے لب پہ ہر دم جو آئی ہے، وہی ہے۔
نہ چاہا کسی اور کو اس طرح سے
محبت کی میری جو سچائی ہے، وہی ہے۔
کہا جس کو میں نے کبھی زندگی
وہی میری سب کچھ، خدائی ہے، وہی ہے۔
وہی روشنی ہے، وہی خواب سا ہے
مری ہر نگاہوں کی بینائی ہے، وہی ہے۔
سنو لوگو! جس نے مجھے جان بخشا
مرے دل میں مظہر جو چھائی ہے، وہی ہے۔






