اِسی تڑپ، اِسی میلان میں خُدا ملے گا

Poet: lost soul By: Haseeb Khan, karachi

اِسی تڑپ، اِسی میلان میں خُدا ملے گا
قریب آ! تجھے اِنسان میں خُدا ملے گا

کتابِ عقل و خِرد کھول اور پڑھ، اِس میں
تجھے کتاب کے عنوان میں خُدا ملے گا

پکار، حضرتِ اِنسان کے لئے، لبیک
تجھے اِسی رہِ آسان، میں خُدا ملے گا

جسے شوال سے لے کر رجب تلک نہ ملا
اُسے کہاں مہِ رمضان میں خُدا ملے گا

یہ اسکا حق ہے اسے دیکھنے دے سوچنے دے
جو سوچتا ہے کہ شیطان میں خُدا ملے گا

ملا نہیں، جسے خود میں کلام کرتا ہوا
اُسے کہاں بتِ بے جان میں خُدا ملے گا

اُٹھائے پھرتا ہوں، تسبیح بھی صلیب کے ساتھ
مجھے اِسی، سر و سامان میں خُدا ملے گا

ہمارے چشمۂ زم زم کو بھی خوشی ہو گی
اگر تجھے، تیرے اشنان میں خُدا ملے گا

اگر یقیں ہے، تو پھر، کعبہ و کلیسا کیا
تجھے یہیں تیرے دالان میں خُدا ملے گا

ہمارا دین تو ن، محبت ہے
اِسی طرح کے مسلمان میں خُدا ملے گا

Rate it:
Views: 1128
27 Apr, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL