اِسی تڑپ، اِسی میلان میں خُدا ملے گا
Poet: lost soul By: Haseeb Khan, karachiاِسی تڑپ، اِسی میلان میں خُدا ملے گا
قریب آ! تجھے اِنسان میں خُدا ملے گا
کتابِ عقل و خِرد کھول اور پڑھ، اِس میں
تجھے کتاب کے عنوان میں خُدا ملے گا
پکار، حضرتِ اِنسان کے لئے، لبیک
تجھے اِسی رہِ آسان، میں خُدا ملے گا
جسے شوال سے لے کر رجب تلک نہ ملا
اُسے کہاں مہِ رمضان میں خُدا ملے گا
یہ اسکا حق ہے اسے دیکھنے دے سوچنے دے
جو سوچتا ہے کہ شیطان میں خُدا ملے گا
ملا نہیں، جسے خود میں کلام کرتا ہوا
اُسے کہاں بتِ بے جان میں خُدا ملے گا
اُٹھائے پھرتا ہوں، تسبیح بھی صلیب کے ساتھ
مجھے اِسی، سر و سامان میں خُدا ملے گا
ہمارے چشمۂ زم زم کو بھی خوشی ہو گی
اگر تجھے، تیرے اشنان میں خُدا ملے گا
اگر یقیں ہے، تو پھر، کعبہ و کلیسا کیا
تجھے یہیں تیرے دالان میں خُدا ملے گا
ہمارا دین تو ن، محبت ہے
اِسی طرح کے مسلمان میں خُدا ملے گا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






