زرد جذبے ہوں تو کب نشو و نما ملتی ہے

Poet: lost soul By: Haseeb Khan, karachi

زرد جذبے ہوں تو کب نشو و نما ملتی ہے
فن کو تہذیب کی بارش سے جلا ملتی ہے

سر میں سودا ہے تو چاہت کے سفر پر نکلیں
کرب کی دھُوپ، طلب سے بھی سوا ملتی ہے

کون سی سمت میں ہجرت کا ارادہ باندھیں
کوئی بتلائے، کہاں تازہ ہوا ملتی ہے

چاند چہرے پہ جواں قوسِ قزح کی صُورت
تیری زُلفوں سے گھٹاؤں کی ادا ملتی ہے

ہم تو پیدا ہی اذیّت کے لئے ہوتے ہیں
ہم فقیروں سے تو دُکھ میں بھی دُعا ملتی ہے

کتنا دُشوار ہے اب منزلِ جاناں کا سفر
خواہشِ قربِ بدن، آبلہ پا ملتی ہے

بے نمو شاخوں سے پتّوں کو شکایت کیا ہو
اب تو پیڑوں کو بھی مشکل سے غذا ملتی ہے

اور بڑھنے دو گھٹن خوف نہ کھاؤ اِس سے
شدّتِ حبس سے تحریکِ بقا ملتی ہے

کبھی فرصت کی کوئی شام، سحر تک دے دے
یوں جو ملتی ہے سرِ راہے تو کیا ملتی ہے

سر سے چادر نہ اُتارو مِرے اچھے فنکار
برہنہ حرف کو معنی کی رِدا ملتی ہے

تیرا انصاف عجب ہے مِرے جبار و غنی
جرم ہم کرتے ہیں بچوں کو سزا ملتی ہے

جب سے تنہائی کو اوڑھا ہے بدن پر
تمکنت لہجے میں پہلے سے سوا ملتی ہے

Rate it:
Views: 706
27 Apr, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL