اِسی لیے تو بدن تیرا اِنعکاس کیا
Poet: ورد بزمی By: ورد بزمی, اسلام آباداِسی لیے تو بدن تیرا اِنعکاس کیا
کہ زہر کو بھی ترے لمس نے مٹھاس کیا
نہ پوچھ ساعتِ جاں! انتقال کی لذت
بس ایک پل نے تناسخ ادا شناس کیا
کوئی بھی آئینہ دیکھوں دکھائی دے تُوہی
کچھ ایسے میں نے تری رُوح کو لباس کیا
ہر ایک لمحہ فنا پر ہی ختم ہونا تھا
نظامِ ہستی میں جب عشق کو اساس کیا
میں زخم زخم رہا پھر بھی مطمئن سا تھا
ترے کراہتے لہجے نے بد حواس کیا
جنوں نے رُوح کو جب خود سپردگی بخشی
تو خار کو کیا گُل، سنگ کو کپاس کیا
ہوائیں اوڑھ کے آئِیں جو دردِ جانِ سخن
تو لمسِ درد نے خوش وَرْد کو اداس کیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






