اِک بیٹی کی شادی میں رکاوٹ جہیز ہے
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL, Gujranwalaاِک بیٹی کی شادی میں رکاوٹ جہیز ہے
لڑکے والوں کی بس چاہٹ جہیز ہے
ہر شے دے کے بھی کمی رہ جاتی ہے
ساس پھر بھی بہو سے کہہ جاتی ہے
لے کے ہی کیا تُو آئی ہے اپنے گھر سے
سب کچھ ہمارا ، کیا لائی ہے اپنے گھر سے
ساس کی بہو سے صرف بغاوت جہیز ہے
اِک بیٹی کی شادی میں رکاوٹ جہیز ہے
نہ ہی بنجر ، نہ ہی زرخیز ضروری ہے
لڑکی سے پہلے لڑکے والوں کی جہیز ضروری ہے
غریب باپ اپنی بیٹی کو بیاہنے کے لئے
قرض کے ساگر میں کُھود جاتا ہے آن بچانے کے لئے
غریب بیٹی کے باپ کی عزت جہیز ہے
اِک بیٹی کی شادی میں رکاوٹ جہیز ہے
نہالؔ جہیز بنانے میں عمریں گزر جاتی ہے
بیٹی کے تن سے حُسنِ جوانی اُتر جاتی ہے
جہیز سبب ہے جوان بیٹیوں کی بربادی کا
جہیز بنا تو گزر گیا وقت بیٹی کی شادی کا
بیٹیوں کی زندگی میں ہی قیامت جہیز ہے
اِک بیٹی کی شادی میں رکاوٹ جہیز ہے
More Love / Romantic Poetry
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے روٹھ جانے کی ہی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
Bina
من میں تمھیں بسا کے من میں تمھیں بسا کے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
Bina






