اِک قدم کویٔ در پیش جب سفر ہوگا

Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UK

 اِک قدم کویٔ در پیش جب سفر ہوگا
کِسی بھی راہ ے اس کو نہ پھر مفر ہوگا

ہوا کے زور سے جو ٹوٹ ٹوٹ جاتا ہے
مری طرح سے اکیلا کویٔ شجر ہوگا

اِسی امید میں پاؤں مرے فگار ہوۓ
کِسی گلی میں تو چھو ٹا سا اپنا گھر ہوگا

بناں کہے وہ مرے دِل کی بات جانے گا
مری وفا کا اگر اس پہ کچھ اثر ہوگا

یہ اور بات کہ کچھ کہہ سکا نہ محفل میں
ہماری چاہ میں تڑپا وہ رات بھر ہوگا

برہنہ پا جو چلے ساتھ سنگریزوں پر
رۂ حیات میں وہ میرا ہمسفر ہوگا

کبھی تو مجھ کو پکاریں گی منزلیں عذراؔ
کبھی تو ختم مرے دکھ کا سفر ہوگا

Rate it:
Views: 479
25 Oct, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL