اِک میں ہی ہوں جس کی وہ مانتا نہیں ہے
Poet: Asif Shaaki By: Asif Shaaki, Hyderabadکیا کرتا تھا جو چُپکے چُپکے مجھ سے رازداری کی باتیں
اب تو سر عام اک لفظ عام بھی مجھ سے کہتا نہیں ہے
وہ سجنا سنورنا اس کا، میرے دیدار کے واسطے
اب تو پل بھر کے لیے آنکھ بھر کر بھی دیکھتا نہیں ہے
اس کا رشتہ مجھ سے گویا حرف آخر لگتا تھا لوگوں
ملتا ہے وہ مجھ سے ایسے کہ جیسے جانتا نہیں ہے
میں توشریک غم بھی رہا ہوں اس کا ہر دم ہر پل
وہ اپنی خوشیاں تک مجھ سے بانٹتا نہیں ہے
اس کے وقت زوال، میں خود جھکا اٹھایا اس کو
سازگار حالات میں بھی وہ میرا ہاتھ تھامتا نہیں ہے
اس کو میں خودغرض نہ کہوں ، تو کیا کہوں
کہ اس نے یاد رکھا ہے خود کو اوروں کو وہ جانتا نہیں ہے
اس کے مجھے اچھی طرح جاننے کے وہ بلند و بانگ دعوے
کبھی پاس سے گزر جاتا ہے ایسے جیسے پہچانتا نہیں ہے
یوں تو زمانے بھر کا وہ مّان رکھتا ہے شاکی
بس اِک میں ہی ہوں جس کی وہ مانتا نہیں ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






