آنچل
Poet: Asghar Azimabadi By: Syed Asghar Hussain, Patnaحُسن بے باک نے یہ کہکے اُڑایا آنچل
میرے محبوب کے تو حوش اُڑانا آنچل
میری آمد کی خبر پاتے ہی شرماتے ہوے ٔ
اُس نے سر پر کبھی کاندھوں پہ سجایا آنچل
میرے محبوب اداؤں میں تیری شامل ہے
شوخ نازک سی حسینٔہ سہ مچلتا آنچل
اپنے دامن میں سمیٹے ہو ے ٔ تاروں کا ہجوم
اُس نے چُن چُن کے ہے ایک ایک سے سجایا آنچل
میری بد بخت نگاہوں کی نظر قید رہے
اُس نے گبھرا کے ہے چہرے پہ لگایہ آنچل
ہم نے تو لاکھ سوالات کییٔ اُن سے مگر
صرف کھولا کبھی اُنگلی پہ لپیٹا آنچل
حالتِ عشق کے احوال جو پوچھے اُن سے
مُسکرا کر کے ہے دانتوں سے دبایا آنچل
رکھ لیا قید میں ساون کی گھٹا ظلفوں میں
اُس نے آہستہ سے جو سر پہ سجایا آنچل
اُلفتوں کا تو گلا اُن سے کیا ہم نے مگر
ایک ایک حرف سے ہے اُس نے بچایا آنچل
ایک اصغر ؔ ہی تو کہتا ہے کہ دیکھوں اب تک
ہے نگاہوں میں بسا میرے وہ پیارا آنچل
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






