آنکھ میں یوں ٹھہر گیا دریا
Poet: zain shakeel By: zain shakeel, gujratآنکھ میں یوں ٹھہر گیا دریا
میرے سر سے اتر گیا دریا
چشم کب تک سمیٹ کر رکھتی
ایک پل میں بکھر گیا دریا
کون اترا ہے تشنگی لے کر؟
ہائے لوگو! کدھر گیا دریا؟
شہر والوں میں شور برپا تھا
چپکے چپکے گزر گیا دریا
باعثِ بے گھری بنا یاروں
جانے کس کس کے گھر گیا دریا
رات آنکھوں میں تھا قیام پزیر
اور وقتِ سحر گیا دریا
کتنا خاموش ہو گیا دیکھو
جانے کیسے سدھر گیا دریا!
پیاس جس کی تلاش میں گم تھی
زینؔ اُس کے شہر گیا دریا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






