اٹھ چلے وہ تو اس میں حیرت کیا

Poet: ساغر خیامی By: راحیل, Karachi

اٹھ چلے وہ تو اس میں حیرت کیا
ان کے آگے وفا کی قیمت کیا

اس کے کوچے سے ہو کے آیا ہوں
اس سے اچھی ہے کوئی جنت کیا

شہر سے وہ نکلنے والے ہیں
سر پہ ٹوٹے گی پھر قیامت کیا

تیرے بندوں کی بندگی کی ہے
یہ عبادت نہیں عبادت کیا

کوئی پوچھے کہ عشق کیا شے ہے
کیا بتائیں کہ ہے محبت کیا

آنسوؤں سے لکھا ہے خط ان کو
پڑھ وہ پائیں گے یہ عبارت کیا

میں کہیں اور دل لگا لوں گا
مت کرو عشق اس میں حجت کیا

گرم بازار ہوں جو نفرت کے
اس زمانے میں دل کی قیمت کیا

کتنے چہرے لگے ہیں چہروں پر
کیا حقیقت ہے اور سیاست کیا

Rate it:
Views: 438
07 Feb, 2022
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL