اٹھ گئی ہے محبت میرے شہر سے اؤ چلتے ہیں ہم بھی کہیں دوستوں
Poet: سردار حمادؔ منیر By: Sardar Hammad Munir, Abbottabadاُٹھ گئی ہے محبّت میرے شہر سے
آؤ چلتے ہیں ہم بھی کہیں دوستوں
اپنی قسمیں ، وہ وعدے ،وہ اپنا بھرم
اب تو پہلے سا کچھ بھی نہیں دوستوں
ساتھ چلنا تھا گرچہ یہیں تک مرے
خواب منزل کے پھر نہ دِکھاتے مجھے
کاش معلوم ہوتا نتیجہ مجھے
الوداع تم کو کہتا وہیں دوستوں
میری منزل تلک تو مرا ساتھ دیں
کوئی وعدہ تو مجھ سے وفا کیجئے
رستہ سنسان منزل بہت دور ہے
ہم پہ اتنا کرم با خدا کیجئے
اس قدر زندگی سے میں اُکتا گیا
دم بھی گھٹنے لگا سانس رکنے لگی
اس طرح تو نہ دشمن ستائے کوئی
مجھ کو جینے کا حق تو عطا کیجئے
بے وجہ نفرتیں پالنا دلربا
بے وجہ چھوڑ جانے کی تدبیر ہے
جو رویّہ تمھارا مرے ساتھ ہے
یہ خدا کی قسم میری تحقیر ہے
تم سے بچھڑا ہوں پھر یہ کرم کس کا ہے
میں تو تنہائی میں بھی نہ تنہا ہوا
دل کی ویرانیاں تم سے آزاد ہیں
میرے دل میں تمھاری ہی تصویر ہے
تم نے جانا تھا اک دن مجھے چھوڑ کر
تم یہ کہتے رہے میں سمجھ نہ سکا
عارضی ہے محبت یہ جیسی بھی ہو
تم یہ کہتے رہے میں سمجھ نہ سکا
جو اشارے جدائی کے تم نے دیے
وہ تو کافی تھے گر میں سمجھتا انہیں
مجھ کو تنہا تڑپتے ہوئے چھوڑ کر
تم بھی جاؤ گے میں یہ سمجھ نہ سکا
خیر یہ تو فقط داستاں رہ گئی
ہم بلا یہ کسی کو سنائیں گے کیوں
کاش تم نہ رلاتے مجھے دلربا
لوگ انجان مجھ کو رلائیں گے کیوں
آپ کی اس محبت کا کیا ہی کہوں
کس سے حامیؔ تمہیں اس قدر پیار تھا
اجنبی تھا ، ملا اور جدا ہو گیا
اجنبی کلیے دل جلائیں گے کیوں
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






