شکوہ

Poet: Syeda Fatima Jumana By: Syeda Fatima Jumana, Karachi

سانسیں چلیں تو شکوہ کروں
گر سانسیں رکیں تو شکوہ کروں

آج کی رات بھی کاٹے نہ کٹی
یہ راتیں نہ کٹیں تو شکوہ کروں

بےچینی نے چُپ طاری کر دی
جو لب نہ کھلیں تو شکوہ کروں

کوئی سبب نہ ملا بےچینی کا
وجوہات نہ ملیں تو شکوہ کروں

اتنی تنہائی کی عادت نہ تھی
راتیں تنہا کاٹیں تو شکوہ کروں

تنہا خود سے کلام کرتی ہوں
اب دیوانہ کہیں تو شکوہ کروں

مرض نے بدن جنجھوڑ ڈالا ہے
یوں زندہ رکھیں تو شکوہ کروں

ہر حکیم کی دوا لے چکی ہوں
بیماریاں نہ ٹلیں تو شکوہ کروں

اس اپنی مدد آپ کے بعد بھی
شفاء نہ بخشیں تو شکوہ کروں

Rate it:
Views: 87
17 Jan, 2026
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL