شکوہ

Poet: Syeda Fatima Jumana By: Syeda Fatima Jumana, Karachi

سانسیں چلیں تو شکوہ کروں
گر سانسیں رکیں تو شکوہ کروں

آج کی رات بھی کاٹے نہ کٹی
یہ راتیں نہ کٹیں تو شکوہ کروں

بےچینی نے چُپ طاری کر دی
جو لب نہ کھلیں تو شکوہ کروں

کوئی سبب نہ ملا بےچینی کا
وجوہات نہ ملیں تو شکوہ کروں

اتنی تنہائی کی عادت نہ تھی
راتیں تنہا کاٹیں تو شکوہ کروں

تنہا خود سے کلام کرتی ہوں
اب دیوانہ کہیں تو شکوہ کروں

مرض نے بدن جنجھوڑ ڈالا ہے
یوں زندہ رکھیں تو شکوہ کروں

ہر حکیم کی دوا لے چکی ہوں
بیماریاں نہ ٹلیں تو شکوہ کروں

اس اپنی مدد آپ کے بعد بھی
شفاء نہ بخشیں تو شکوہ کروں

Rate it:
Views: 100
17 Jan, 2026
More Sad Poetry