اپنا چہرہ اترا ہوا دیکھا ہے
Poet: Maria Rehmani By: Maria Rehmani, Kharianاپنا چہرہ اترا ہوا دیکھا ہے
میں نے تیرے بنا گھر آ کے دیکھا ہے
لڑے ہیں بہت روٹی کے لقمے میرے خلق سے
میں نے تیرے بنا کھانا کھا کے دیکھا ہے
مجھے آج دیکھائی نہیں دی کہیں بھی بے ترتیبی
تیرے کپڑے میں نے با رہا بکھیر کر دیکھا ہے
مل جاےؑ تھوڑی سی خوشبو تیری
میں نے تیرے تکیے سے لپٹ کر دیکھا ہے
ہوا معلوم تجھ سے محبت ہے کتنی
جو آج آنکھوں میں تڑپ کا پانی دیکھا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






