اپنوں کے ملبوس میں جذبوں کے خریداروں نے
Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, islamabadاپنوں کے ملبوس میں جذبوں کے خریداروں نے
مجھے راستے کا پتھر کیا میرے غمگُساروں نے
آشنائی نہیں تھی مجھے مزاجِ آتش ِعشق سے
دل کو ہی جلا دیا میرے، اُلفت کے شراروں نے
تُو نے بھی اِسی سوچ میں ہر ظُلم روا رکھا مجھ پر
کہاں جانا ہے تیری محفل سے درد کے ماروں نے
عہد ِوفا چاہتے ہیں سر ِراہ چھوڑ کے جانے والے
نایاب محبت کو رُسوا کیا ہے دُہرے میعاروں نے
حوصلہ ہی نہیں دل میں راہِ دُشوار پہ چلنے کا
کبھی پاؤں پہ کھڑا ہونے دیا نہیں سہاروں نے
گُل وخُوشبو سے اِکبار میرے در و بام مزیّن کر کے
کیوں رُخ موڑ لیے میرے گُلشن سے بہاروں نے
ہمیں شمار کرتے ہو یا گِنتے ہو دُکھ درد اپنے
فرط ِحیرت سے مجھے پُوچھا شبِ ہجر کے تاروں نے
دل کو بھلا لگتا تھا لہروں کی آغوش میں رہنا
ساحل کی طرف آیا تو مجھے روک لیا کناروں نے
میری جیت کہیں رُخِ یار کا تبسم ہی نہ لے اُڑے
ڈر سے رِشتہ بنا رکھا ہے مجھ سے میری ہاروں نے
اب کے جاں لے لو یا عطا کر دو اُلفت کا سائباں
اور کیا مانگنا ہے رضا بے یارو مددگاروں نے
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






