اپنی آنکھ کا تیر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Poet: m.asghar mirpuri By: m.asghar mirpuri, birminghahamاپنی آنکھ کا تیر جو تو نےمارا صنم
اس سےگھائل ہو گیادل ہمارا صنم
تم کیا جانوکتنا نازک دل تھاہمارا
آخرآنکھ کی زدمیں آگیابیچاراصنم
پہلی نظرمیں دل گھائل کرڈالا
تمہاری آنکھیں ہیں یاشرارہ صنم
جو بھی تیری آنکھوں میں کھوگیا
پھر وہ کبھی نظرنہ آیا دوبارہ صنم
تیری آنکھوں میں ہم ایسےکھوئے
اب ملتا نہیں ہے کوئی کنارہ صنم
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






