اپنی آنکھوں میں کہیں مجھکو بسا لو اب تو
Poet: Ahsan Mirza By: Ahsan Mirza, Karachiاپنی آنکھوں میں کہیں مجھکو بسا لو اب تو
صفحہءِ دل پہ میرا نام سجا لو اب تو
جو گھٹا زلف کی چہرے پہ ہے پھیلی تیرے
اپنی انگلی سے اسے پیچھے ہٹا لو اب تو
لذتِ عشق سے محروم نہیں کر مجھکو
میری بانہوں میں کبھی خود کو بسا لو اب تو
تو بھی سجدوں میں بڑے عجز سے لفظوں میں مجھے
اپنے ہونٹوں سے کبھی مثلِ دعا لو اب تو
ہے میری روح میں ترا عشق، میری خاک میں عشق
تم اس ہی خاک کا اک محل بنا لو اب تو
کب تلک عشق میں رسوا یونہی ہوگے احسن
گریباں سی بھی چکو، صاف قبا لو اب تو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






