اپنی اناء مٹاتی تو سہی اک بار
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaمجھے آزماتی
تو سہی اک بار
اپنی اناء مٹاتی
تو سہی اک بار
مجھے اپنا کہتی
تو سہی اک بار
میرے لیے رات کو
جاگتی تو سہی اک بار
مجھے مجھ سے چراتی
تو سہی اک بار
میرے لیے دعاؤں کا ہاتھ
اٹھاتی تو سہی اک بار
میری باتوں پے
مسکراتی تو سہی اک بار
میرے لفظوں کو دل سے
لگاتی تو سہی اک بار
چاند راتوں میں
جھلملتی تو سہی اک بار
پھولوں کی طرح
شرماتی تو سہی اک بار
اپنے ہاتھوں میں
میرا ہاتھ لیتی تو سہی اک بار
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






