اپنی باری کا انتظار آجاؤ
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیااک ہیولا ہوں اور غبار آجاؤ
جانے میں کس کے اختیار آجاؤ
مر رہی ہوں کہ جی نہیں سکتی
اور زندە ہوں کسی کا اعتبار آجاؤ
ان لکھی سی کوئی عبارت ہوں
ابر میں ہوں کبھی بہار آجاؤ
ایک ذرە ہوں دشتِ وحشت کا
راستے میں پڑے غبار آجاؤ
ہاۓ شوریدە زندگی کا زوال
واۓ خوش فہمیِ پیار آجاؤ
دامِ صد حلقہ میں ہے جانِ حزیں
خوابِ گُم گشتہ کے حصار آجاؤ
مرگِ ہستی ہے روبرُو محبوب
اپنی باری کا انتظار آجاؤ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






