اپنی دستار مرے پاؤں میں دھرنے والے

Poet: Yasmeen Sehar By: Dx Umer, peshawar

اپنی دستار مرے پاؤں میں دھرنے والے
سر مرا لیں گے محبت مجھے کرنے والے

یہ فراغت کی گھڑی روز دلاتی ہے یاد
زندگی سے جو مجھے کام ہیں پڑنے والے

موت کا نام ہی سن کر جو سہم جاتے تھے
اب قیامت چلی آئے .....نہیں ڈرنے والے

زندگی پھر سے نمک ان پہ چھڑک جاتی ہے
زخم ہوتے ہیں جو کچھ روز میں بھرنے والے

خوب صورت سے مناظر میں نمایاں جو رہے
پھول ہیں ہم بھی وہی شاخوں سے جھڑنے والے

پڑھنے والا کوئی اک آدھ نظر آئے مجھے
میں بھی حالات لکھوں خود پہ گزرنے والے

وقت کے ہاتھوں مرے کاندھوں پہ چڑھ بیٹھے ہیں
اور کچھ دیر میں جو پاؤں تھے پڑنے والے

زندگی موت کے ہاتھوں میں وہی دے گئے ہیں
یاسمیں لوگ مرے نام پہ مرنے والے

بک گئے وہ بھی سحر ردی کے بھاؤ میں آج
خط کئی خاص تھے جو بارہا پڑھنے والے

Rate it:
Views: 730
10 Dec, 2020
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL