اپنی دستار مرے پاؤں میں دھرنے والے
Poet: Yasmeen Sehar By: Dx Umer, peshawarاپنی دستار مرے پاؤں میں دھرنے والے
سر مرا لیں گے محبت مجھے کرنے والے
یہ فراغت کی گھڑی روز دلاتی ہے یاد
زندگی سے جو مجھے کام ہیں پڑنے والے
موت کا نام ہی سن کر جو سہم جاتے تھے
اب قیامت چلی آئے .....نہیں ڈرنے والے
زندگی پھر سے نمک ان پہ چھڑک جاتی ہے
زخم ہوتے ہیں جو کچھ روز میں بھرنے والے
خوب صورت سے مناظر میں نمایاں جو رہے
پھول ہیں ہم بھی وہی شاخوں سے جھڑنے والے
پڑھنے والا کوئی اک آدھ نظر آئے مجھے
میں بھی حالات لکھوں خود پہ گزرنے والے
وقت کے ہاتھوں مرے کاندھوں پہ چڑھ بیٹھے ہیں
اور کچھ دیر میں جو پاؤں تھے پڑنے والے
زندگی موت کے ہاتھوں میں وہی دے گئے ہیں
یاسمیں لوگ مرے نام پہ مرنے والے
بک گئے وہ بھی سحر ردی کے بھاؤ میں آج
خط کئی خاص تھے جو بارہا پڑھنے والے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






