اپنی یاد سے کہو جاناں
Poet: IMTIAZ SHARIF IMTIAZ By: RAAZ BHANEWALI, SIALKOTاپنی یاد سے کہو جاناں
مجھے یاد نہ آیا کرے
کیونکہ تمہاری یاد کے آنے سے
میں کھو سا جاتا ہوں کہیں
اور بے خبر ہو جاتا ہوں زمانے سے
ایسی بے خبری کے عالم میں
تمہاری چاہت کے راز
یہ خاموشی اور پریشانی کے رنگوںسے تحریر الفاز
زمانہ پڑھ لیتا ہے میرے چہرے سے
اس لیے
اپنی یاد سے کہو جاناں
جب گھر میں آئے ہوں مہماں
تو مت آیا کرے
کیونکہ تمہاری یاد آنے کے دوراں
میں غمزدہ سا لگتا ہوں اور پریشاں
تو سب میری اس حالت کا سبب پوچھتے ہیں
ہزار سوال اٹھاتے ہیں تو
میں لا جواب ہو کے رہ جاتا ہوں
اس لیے اپنی یاد سے کہو جاناں
مجھے یاد نہ آیا کرے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






