اپنے بالوں میں تیرے نام کا پھول سجا لیتی ہوں
Poet: Rukhsana kausar By: Rukhsana kausar, Jalal Pur Jattan, Gujratاپنے بالوں میں تیرے نام کا پھول سجا لیتی ہوں
سر شام تیری یاد کے دیئے جلا لیتی ہوں
جب بھی یاد آتے ہو تم بے حساب
چپکے سے تجھے خیالوں میں بلا لیتی ہوں
رات سب سے چھپ کر
تیری تصویر سینے سے لگا لیتی ہوں
تجھے خبر بھی ہے جاناں میرے
چاند دیکھ کے آنکھیں جھکا لیتی ہوں
میں خود کو سجا لیتی ہوں اس طرح
لکھ کے تیرا نام ہیتھلی پہ خود کو تم بنا لیتی ہوں
تیرا احترام تیرا تقدس یوں ہے جاناں
کہ تجھکو کاجل کے جیسے آنکھوں میں لگا لیتی ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






