اپنے جذبات آﻧﻜﮭ میں رﻜﻬ لو
Poet: Yaseen Shahi By: Yaseen Shahi, Islamabadاپنے جذبات آﻧﻜﮭ میں رﻜﻬ لو
بس یہی بات آﻧﻜﮭ میںرﻜﻬ لو
زندگی تو سفر ہے صحرا کا
تھوڑی برسات آﻧﻜﮭ میں رﻜﻬ لو
دﻦ سے جاناں کبھی چھپا کے مجھے
صرف اک رات آﻧﻜﮭ میں رﻜﻬ لو
میں ہوں محور تمہاری چاہت کا
تم میری ذات آﻧﻜﮭ میں رﻜﻬ لو
جن سے خوابوں میں رنگ بھر جائیں
ایسے لمحات آﻧﻜﮭ میں رﻜﻬ لو
شاہی ہم سے وفا پرستوں کی
کوئی تو بات آﻧﻜﮭ میں رﻜﻬ لو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






