اپنے دِل کو بےقرار نہیں کرنا ہے
Poet: UA By: UA, LAHOREاپنے دِل کو بےقرار نہیں کرنا ہے
جاناں! ہم نے تم سے پیار نہیں کرنا ہے
وقت گزاری ، دِل لگی، آوارہ پن
ایسا کوئی بھی اظہار نہیں کرنا ہے
ہم پہلے سے مبتلائے شوق رہے ہیں
کوئی بھی ایسا اِقرار نہیں کرنا ہے
نہ تم کو دیکھیں گے، نہ دِل ہاریں گے
رنج و الَم کو گلے کا ہار نہیں کرنا ہے
اپنی جان کو سوئے دار نہیں کرنا ہے
اپنے دِل سے دھوکہ یار نہیں کرنا ہے
ہم نے اپنے دِل کو یہ سمجھایا ہے
اَب کچھ ایسا بار بار نہیں کرنا ہے
اپنے دِل کو بےقرار نہیں کرنا ہے
جاناں! ہم نے تم سے پیار نہیں کرنا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






